احمد آباد، 14 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات بی جے پی کے لیڈر جینتی بھانوشالی کے قتل کے اہم ملزم بی جے پی کے سابق ممبر اسمبلی چھبیل پٹیل کو ایس آئی ٹی نے احمد آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔چھبیل پٹیل کے خلاف پہلے ہی پولیس نے وارنٹ جاری کر رکھا تھا،اگرچہ چھبیل پٹیل بھانوشالی کے قتل سے دو دن پہلے ہی مشرق وسطی ہوتے ہوئے امریکہ چلا گیا تھا۔اسی سال جنوری میں گجرات بی جے پی کے سابق نائب صدر اور سابق ممبر اسمبلی جینتی بھانوشالی کو دیر رات چلتی ٹرین میں گولی مار کر قتل کر دیا گیاتھا۔ابڈاسا سے رکن اسمبلی رہے بھانوشالی، سیاجي نگری ٹرین سے بھج سے احمد آباد جا رہے تھے۔مالیہ کے پاس بدمعاشوں نے اے سی کوچ میں گھس کر بھانوشالی پر فائرنگ کی تھی،جس میں ان کی موت ہو گئی تھی۔اس سے پہلے جینتی بھانوشالی پر گزشتہ سال ایک خاتون نے عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔اس کے بعد انہوں نے گجرات بی جے پی کے نائب صدر کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، معاملہ سرخیوں میں آنے کے بعد گجرات حکومت نے اس معاملے کی جانچ ایس آئی ٹی کو سونپ دی تھی۔اس کیس میں تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایس آئی ٹی نے دو سپاری قاتل گرفتار کئے تھے۔جانچ آگے بڑھی تو بی جے پی کے سابق ممبر اسمبلی چھبیل پٹیل اور ان کے بیٹے کے نام اس معاملے میں آیا۔اس کے بعد ایس آئی ٹی نے پختہ معلومات جٹائی اور چھبیل پٹیل کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا،جانچ میں انکشاف ہوا کہ بھانوشالی کے قتل کے لئے چھبیل پٹیل نے تیز شوٹرس کو 50 لاکھ روپے کی سپاری دی تھی۔اس کے بعد ایس آئی ٹی نے چھبیل پٹیل کو مفرور قرار دے دیا۔یہی نہیں پولیس نے اس کے بیٹے کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی اس کی کروڑوں روپے کی جائیداد ضبط کر لی۔پٹیل کے بیٹے کے علاوہ خاندان کے دوسرے ارکان کو بھی مدد کے نام پر جانچ ایجنسی نے گرفتار کر لیا۔ایسے میں چھبیل پٹیل کے پاس وطن لوٹنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔الزام ہے کہ چھبیل پٹیل نے سیاسی دشمنی کے سبب ہی جینتی بھانوشالی کو قتل کرایاتھا،چھبیل پٹیل پر لگے عصمت دری کے الزامات کی جانچ دہلی پولیس کر رہی ہے۔